Ad Code

Ticker

6/recent/ticker-posts

بادہِ گُل رنگ

Jangle Udas hai, bada e gul rang, nawaiwaqt columns, daily jang columns, sohail warraich urdu columns, express columns, columnist, independent urdu, asad Mahmood, dunya newspaper, javed ch latest column, sohail warraich columns, fifth column, adventure, Humor & Jokes, Movie Reviews, Previews  & Listings, Sports Fan Sites & Blogs, Poetry, Political News & Media, Meme, Memes, Funny Memes, اسد، محمود، اسد محمود، اردو، کالم، اردو کالم، مزاح، اردو مزاح، جاوید چودھری، عطاالحق قاسمی، ابنِ انشاء، پطرس بخاری، کرنل محمد خان، شفیق الرحمٰن، جنگل اُداس ہے، بادہِ گل رنگ، شاعری، اُردو،

یا باری تعالیٰ!یہ کیسا امتحان ہے؟کیسی آزمائش ہے؟یہ میرے سینے میں  پایاب سمندر کیوں  آن اَٹکا ہے؟ میرے وہ زمانے کیا ہوئے جومیرے اندر بسا کرتے تھے اور جن کے بارے میں  مجھے کبھی وہم ہوا تھاکہ

کیا خبر ہے کہ ہنسانے کیا رُلانے نکلے

دفن مجھ میں  تھے جو کتنے ہی زمانے نکلے

یہ مجھ پہ لفظوں  کا قحط کیوں  آ ن پڑا ہے؟یہ کیسی ”پُر شور“ خاموشی میرے رَگ وپے میں  سما گئی ہے ۔ یوں  محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میرے اندر رُوئی دھنکی جارہی ہو۔ ہزاروں  طوفان ہر سمت سے دل کی دیواروں  کی منہدم کرنے کے دَرپے ہوں  لیکن باہر ہر سُو سکوت ِ صحرا کی مانند ہُو کا عالم ہو۔ جون ایلیا کا حال تو غالباََ مجھ سے یکسر مختلف تھا جو وہ کہتے رہے کہ

مستقل بولتا ہی رہتاہوں

اِتنا خاموش ہوں  میں  اندر سے

میرے دل کا محرم تو شاید یہاں  کوئی بھی نہیں  ۔ ہاں ،البتہ ہاشم ندیم خان نے اپنے ایک ناول میں  بڑے پتے کی بات کی ہے

 ”خاموشی صرف باتیں  ختم ہو جانے کے بعد ہی در نہیں  آتی ۔کبھی کبھی جب کہنے کے لیے بہت زیادہ ہو ۔ تب بھی ہمارے لفظ کھو جاتے ہیں “

مزید دِل چسپ  بلاگ:

بات پہنچی تیری جوانی تک

ہاں! تو میں کہہ رہا تھا کہ ۔۔۔

بھونڈی

 میرے ساتھ بھی تو ایسا ہی ہو رہا ہے ۔ ایسی کیفیت کئی دنوں  سے طاری ہے کہ دل کے نہاں  خانوں  میں  گویاآئس برگ ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں  لیکن ان کے شور میرے لبوں  سے ادا نہیں  ہوتا، میرے لفظوں  سے عیاں  نہیں  ہوتا۔ یہ دُرونِ دل جو آگ سی آگ دِکھتی ہے۔اس کا دھواں  بھلا کیوں  نہیں  اُٹھتا ۔  یہ کیسی ’بے عیب‘سی آگ ہے جو جلاتی تو ہے لیکن اپنا پتہ نہیں  دیتی۔کوئی ایسا راستہ ، ایسا سجھاؤ کہ کسی میرؔ کو کہنا پڑ جائے کہ

دیکھ تو دِل کہ جاں سے اُٹھتا ہے

یہ دھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے

مجھے لگتا ہے کہ جیسے میری قوت ِگویائی ہی چھِن گئی ہو۔ قوت ِگویائی چھننا بھی کیسا دردناک اور وحشت ناک ہوتا ہے، کاش یہ بات کوئی منازل کی راہ میں  ایستادہ درختوں  سے پوچھتا ۔ مکین ،مکان کا شرف ہوتے ہوں  گے جبھی تو غالبؔ نے کہا تھا کہ

ہر اِک مکان کو ہے مکیں  سے شرف اسد

مجنوں  جو مر گیا ہے تو جنگل اُداس ہے

لیکن جونؔ ایلیا نے بھی تو غلط نہیں  کہا تھا کہ

قابلِ رحم ہیں  وہ دیوانے

جن کو حاصل نہیں  ہیں  ویرانے

ادبی وی لاگز  یہاں دیکھے جاسکتے ہیں۔

لیکن میں  تو شاید کوئی فرزانہ تھا۔جسے اقلیمِ ادب کی گداگری کا شرف ملا تھااور جہاں  تک مجھے یاد پڑتا ہے ۔میرے ہاتھوں  میں تو شایدموقلم ہوتا تھا جس سے میں  قرطاس کے چہروں  پہ مجسم سراپے تخلیق کرتا تھا ۔ یا شایدپھر میرے ہاتھوں  میں  کوئی جھاڑو ہوتا تھاجس سے میں  جھاڑ جھنکار اپنے دامن میں  بھرنے کاکام لیتا تھا۔  یہ ادب کی وہی سلطنت تھی جہاں  لفظ چلتے پھرتے تھے ۔ ہمکلام ہوتے تھے۔ مجسم صورتوں کی مثل دل میں  اُتر جاتے تھے یا دل سے اُتر جاتے تھے۔  لیکن یہ تو شاید فرزانگی نہیں  بلکہ دیوانگی ہے جبھی تو ایسا ہورہا ہے ۔ بھلا فرزانے ایسی باتیں  کب کرتے ہیں ۔ شاید یہ دیوانگی کا ہی کوئی کٹھن مرحلہ ہے،جہاں  رونا ہی قوت ِ گویائی کا متبادل ہو۔  مجھے تو احمد ندیمؔ قاسمی بھی اس راز سے آشنا دکھائی دیتے ہیں  جبھی تو وہ کہہ گئے ہیں  کہ

رونا بھی تو طرزِ گفتگو ہے

آنکھیں  جو رُکیں  تو لب ہلاوں

سو، جب تک مجھے قوتِ گویائی ،جذبوں  اور احساسات کو لفظوں  میں  پرونے کا ہنر واپس ملتا ہے ،تب تک آپ ذرا حوصلے مندی کا ثبوت دیں  ۔ میرے رونے کو سمجھنے کی کوشش کریں  ۔  جب تک میں  ساہیوال کے  بشیرؔ احمد سے ایک دعا مستعار لیتا ہوں :

اِک میرے نام کا بھی بادہءِگل رنگ چلے

اِک میرے نام کی بھی سیخ لگا دی جائے

ایک نظر اِدھر بھی:

حق مغفرت کرے

اے پی سی

بابا رحمتے کے تاریخی فیصلے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے